FIFA World Cup and Qatar’s Unprecedented Hosting

Dear readers, since the day when the FIFA World Cup was approaching in Qatar was approaching, the Western media intensified their offensive attitude against Qatar and started spreading propaganda against them very quickly. It was said that Qatar commits widespread human rights violations and the conditions of migrant workers living there are not good.

There are issues in every country, and there is no doubt that there are issues in Qatar as well, but it is not understandable to target Qatar with such frequency and throw things off before the World Cup is held.

Even in the countries where the World Cup or other major sports events have been held before, we know that those countries also have issues.

It is clear that there is a dictatorship in Africa and no other country violates human rights as much as reported in Africa. In the same way, there are entire mafias, gang wars and drug cartels in the countries of North America, but sports events are also organised there. Similarly, the example of China and Russia is also in front of you.

Sports are not usually criticised because of problems in other countries, but this is the first time that sports are being used for politics.

I commend the Government of Qatar for responding strongly to all the propaganda and ensuring that the event is held. Along with this, the way today’s inauguration event was organised and the message of the Quran was conveyed to the whole world through a disabled motivational speaker who is also a reciter of the Quran was something absolutely remarkable. On the other hand, it was very biased that BBC and ITV did not telecast the opening ceremony. This behaviour is regrettable and incomprehensible; why was this done despite the presence of media teams in Qatar?

These tactics show that if there is such an activity in an Islamic country, they will not tolerate it. I also pay tribute to the Government of Qatar for allocating prayer spaces inside the stadium, organising dawah and tabligh programs and setting up stalls. Perfumes and gifts were arranged for the guests who came to the function. All this is a very positive step and is commendable.

The way Qatar has respected its Islamic traditions in hosting the Football World Cup is an example for all Islamic countries!! A gift of perfume to all spectators at their seats in the stadium.

Qatar called the whole Western world and banned alcohol, banned inappropriate clothing, and five times the sound of adhan is echoed around the stadiums.

Through this mega event, not only is a wonderful impression of Qatar emerging all over the world, but Qatar is also performing the duty of dawah through this medium. It shows that forcefully suppressing Islam does not matter as it emerges in new ways and means. On the other hand, those who claim freedom of speech want to impose their ideas on others, but they do not tolerate anyone else’s ideas, traditions and culture.

فیفا ورلڈ کپ اور قطر کی بےمثال میزبانی

محترم قارئین جب سے قطر میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے انعقاد کے دن قریب آرہے تھے، مغربی میڈیا کی جانب سے قطر کے خلاف جارحانہ انداز اپنانے میں شدت آگئی اور بہت تیزی سے قطر کے خلاف پراپیگنڈہ کرنا شروع کردیا گیا۔ کہا گیا کہ قطر بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرتا ہے اور وہاں مائیگرینٹ ورکرز کے حالات اچھے نہیں ہیں۔

ایشوز تو ہر ملک میں ہوتے ہیں اور اس میں دو رائے ہے بھی نہیں کہ قطر میں بھی ہیں لیکن ورلڈ کپ کے انعقاد سے قبل اتنے تواتر کیساتھ قطر کو نشانہ بنانا اور معاملات کو اچھالنا، یہ سمجھ میں نہیں آتا ۔

جن ممالک میں بھی اس سے قبل ورلڈ کپ ہوئے ہیں یا اسپورٹس کے دیگر بڑے ایونٹس کا انعقاد ہوا ہے وہاں بھی ایشوز تو موجود رہے ہیں ۔

افریقہ میں آپ کے سامنے ہے کہ ڈکٹیٹرشپ ہے اور ہیومن رائٹس کی جتنی خلاف ورزی وہاں ہوتی ہے اور کہیں نہیں ہوتی۔ اسی طرح نارتھ امریکہ کے ممالک میں پورے پورے مافیا، گینگ وارز اور ڈرگ کے کارٹیل موجود ہیں لیکن وہاں بھی سپورٹس ایونٹس منعقد ہوتے ہیں ۔ اسی طرح چین اور روس کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے ۔

کسی اور ملک میں موجود مسائل کی وجہ سے وہاں کھیلوں کے انعقاد پر تنقید عمومآ نہیں ہوتی لیکن یہ پہلی دفعہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ اسپورٹس کو سیاست کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔

میں قطر کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس نے تمام پراپیگنڈا کا بھرپور جواب دیا اور ایونٹ کے انعقاد کو یقینی بنایا۔ اس کے ساتھ جو آج کی تقریب تھی اس میں جیسے افتتاح ہوا اور ایک معذور موٹیویشنل اسپیکر جو قرآن کا قاری بھی ہے اس کے ذریعے سے قرآن کا پیغام پوری دنیا تک پہنچایا گیا وہ بہت قابل تحسین عمل ہے۔ دوسری جانب انتہائی متعصب رویہ دیکھنے کو ملا کہ بی بی سی اور آئی ٹی وی نے افتتاحی تقریب کو ٹیلی کاسٹ نہیں کیا۔ یہ رویہ افسوس ناک اور سمجھ میں نہ آنے والا ہے کہ میڈیا ٹیمز کی قطر میں موجودگی کے باوجود ایسا کیوں کیا گیا؟

ان ہتھکنڈوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی اسلامی ملک میں ایسی سرگرمی ہو تو ان کو یہ برداشت نہیں ۔ اس کے ساتھ میں قطر کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اسٹیڈیم کے اندر نماز کی جگہوں کو مختص کیا ہے، دعوت و تبلیغ کے پروگرام مرتب کئے ہیں اور اسٹالز لگائے گئے ہیں ۔ جو مہمان تقریب میں آئے تھے ان کیلئے عطر اور تحائف کا اہتمام کیا گیا۔ یہ سب بہت مثبت قدم ہے اور قابل ستائش ہے۔

‏فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی میں جس طرح قطر نے اپنی اسلامی روایات کا مان رکھا ہے وہ تمام اسلامی ممالک کیلئے مثال ہے !! اسٹیڈیم میں سب تماشائیوں کے لیے ان کی سیٹ پر عطر کا تحفہ۔

‏قطر نے ساری مغربی دنیا کو بلا کر شراب پر پابندی لگا دی ، نامناسب لباس پر پابندی لگا دی ، پانچ وقت اذان کی آواز متواتر اسٹیڈیمز کے گرد و نواح میں گونج رہی ہیں۔

اس میگا ایونٹ کے ذریعے سے دنیا بھر میں نہ صرف قطر کا بہت شاندار تاثر ابھر کر سامنے آرہا ہے بلکہ قطر اس ذریعے سے دعوت دین کا کام بھی سرانجام دے رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو زبردستی دبانے سے اسلام کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور یہ مزید نئے راستے اور ذریعوں سے ابھرتا ہے۔ دوسری طرف جو لوگ فریڈم آف اسپیچ کے دعوے کرتے ہیں وہ اپنے نظریات تو دوسروں پر تھوپنا چاہتے ہیں لیکن کسی اور کا نظریہ، روایات اور ثقافت ان سے برداشت نہیں

Shopping Basket