A Memorable Interview of Former Crown Prince of Jordan, Hassan Bin Talal

Dear readers, it is so unfortunate that I don’t want to do or write anything these days. It might be because of my sickness.

After many days I got an opportunity to watch an interview with a world leader and was surprised how there are leaders with great vision in the Muslim Ummah, but we are not very familiar with them. At first, the content was not much understandable due to a lack of familiarity with the English language. Now we have become so familiar with this language that the content broadcasted and printed in it can be understood, Alhamdulillah.

By the way, it is not possible to watch TV regularly for a long time, and I don’t want to watch the news at all, but sometimes I watch Al-Jazeera or TRT news for a while in the morning so that I can get to know and understand something new. Yesterday too, TRT, a Turkish news channel, was switched on, and a beautiful person was sitting there talking to a scholar, and it was very nice to see him. Their conversation was outstanding, and I thought I might recognize them. After listening for some time, I learned he is the former Crown Prince of Jordan, Hassan Bin Talal.

His interview was fantastic, and I will write a separate article on it.

Prince Hasan Bin Talal may not be recognized by the youth of today. His relationship with Pakistan has also been profound. Sarwat Ikramullah, the youngest daughter of Pakistan’s former foreign secretary Ikramullah, was born in 1947 and received her higher education in Britain. Meanwhile, Prince Hasan was also studying there, so they met there and got married in August 1968. This marriage was also interesting and took place with great fanfare. PTV telecasted this marriage live. The witnesses of the wedding were Field Marshal General Ayub Khan and King Shah Hussain of Jordan himself. The media also gave special coverage to this marriage. It was an atmosphere of celebration all over Pakistan, and Karachi was specially decorated like a bride. The individuals who witnessed this event and are among us now will definitely have complete information about this. Because of this marriage, Prince Hasan had a special attachment to Pakistan and visited the country regularly. He also spoke Urdu. There are no two opinions on the merit of Prince Hassan. He has also received honorary degrees from many universities around the world. He is the author of many books and is a scholar. Masha Allah, his wife, is also a sensible woman. Proficient in English, French and Arabic.

It was great to see him on screen after a long time, and it was great to watch an interesting and informative interview after a really long time. His words were full of positivity. His grasp of history is firm and provides an excellent analysis of the future situation. Although he did not speak openly on politics, the main reason is that Prince Hassan was the crown prince and his elder brother King Hussain was the king at that time. He was the crown prince for many years, and during this time, Shah Hussain had to go to America for treatment. When he returned from America 4 days before his death in 1999, the first thing he did when he arrived was to remove Prince Hassan bin Talal from the crown. He deposed and named his eldest son as crown prince and died a few days later. Prince Hasan showed his understanding and pledged allegiance to his nephew. He was active and primarily engaged in charity work for a long time, but for some time now, he has been living a life of anonymity.

My only request is that the Islamic world is kept deprived of the leadership of a great thinker and a leader with a clear vision. Today, we all know that there is an evident lack of such educated and worldly leaders in the Muslim Ummah. A detailed discussion of why Prince Hassan was not allowed to become the King of Jordan will be discussed some other time, but there is no doubt that he is a sincere and thoughtful leader, and the Islamic world is in dire need of such individuals.

اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال کا ایک یادگار انٹرویو

محترم قارئین آج کل کچھ بھی کرنے اور لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا۔ شائد طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے یہ کیفیت ہے۔

بہت دنوں بعد مجھے کسی عالمی لیڈر کا انٹرویو دیکھنے کا موقع ملا اور حیرانی ہوئی کہ امت مسلمہ میں کیسے عظیم ویژن رکھنے والے لیڈرز موجود ہیں لیکن ہم ان سے زیادہ واقف نہیں۔ پہلے تو انگریزی زبان سے عدم واقفیت کی وجہ سے اکثر مواد آنکھوں سے اوجھل رہتا تھا لیکن اب اس زبان سے اتنی واقفیت تو ہوگئی ہے کہ اس میں نشر ہونے والا اور چھپنے والا مواد سمجھ آجائے الحمدللہ۔

ویسے تو بہت عرصہ سے باقاعدگی سے ٹی وی دیکھنا ممکن نہیں اور نیوز تو بالکل ہی دیکھنے کو دل نہیں چاہتا لیکن کبھی کبھی صبح کے وقت کچھ دیر کیلئے الجزیری یا ٹی آر ٹی نیوز دیکھ لیتا ہوں تاکہ کچھ نیا دیکھنے اور سمجھنے کو مل سکے۔ کل بھی اسی طرح ٹی آر ٹی جو کہ ترکی کا نیوز چینل ہے وہ لگایا تو وہاں ایک خوبصورت شخصیت بیٹھی علمی اندز سے گفتگو کررہی تھی اور دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ ان کی گفتگو بہت اچھی تھی اور مجھے لگا کہ شائد میں انہیں پہچانتا ہوں۔ کچھ دیر کی بات سننے کے بعد مجھے معلوم ہوگیا کہ وہ اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال ہیں۔

ان کا یہ انٹرویو بہت شاندار تھا اور اس پر الگ سے بھی ایک آرٹیکل لکھوں گا۔

شہزادہ حسن بن طلال کو موجودہ دور کے نوجوان تو شائد بالکل بھی نہ پہچانتے ہوں۔ ان کا تعلق پاکستان کے ساتھ بھی بہت گہرا رہا ہے۔ پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اکرام اللہ صاحب کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ثروت اکرام اللہ جو 1947 میں پیدا ہوئیں اور برطانیہ میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ اسی دوران شہزادہ حسن بھی وہاں زیر تعلیم تھے تو وہاں ان کی ملاقات ہوئی اور پھر اگست 1968 میں دونوں کی شادی ہوگئی۔ یہ شادی بھی بہت دلچسپ تھی اور دھوم دھام سے ہوئی۔ پی ٹی وی نے اس نکاح کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا، نکاح کے گواہ فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان اور اردن کے کنگ شاہ حسین بذات خود تھے تو اس نکاح اور شادی کی دھوم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس اہمیت کے پیش نظر ہی پوری دنیا کے میڈیا نے بھی اس شادی کو خاص کوریج دی۔ پورے پاکستان میں بھی جشن کا سماں تھا اور کراچی کو خاص کر دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ اس زمانے کے جو حضرات ہم میں موجود ہیں یقینا انہیں اس بارے میں مکمل معلومات ہوں گی۔ اسی شادی کی وجہ سے شہزادہ حسن کو پاکستان سے خاص لگائو تھا اور وہ پاکستان باقاعدگی سے آتے تھے، اردو بھی بول لیا کرتے تھے۔ شہزادہ حسن کی لیاقت پر دو رائے نہیں انہیں دنیا کی کئی یونیورسٹیوں کی جانب سے اعزازی ڈگریاں بھی ملی ہوئی ہیں۔ کئی کتب کے مصنف ہیں اور ایک علمی شخصیت ہیں۔ ان کی اہیلہ بھی ماشاءاللہ ایک سمجھ دار خاتون ہیں۔ انگریزی، فرنچ اور عربی پر عبور رکھتی ہیں۔

بہت عرصہ بعد انہیں سکرین پر دیکھ کر بہت اچھا لگا اور واقعی عرصہ بعد کوئی مزیدار اور معلوماتی انٹرویو دیکھنے کو ملا۔ ان کی باتوں میں پوزیٹوٹی بھری ہوئی تھی۔ ان کی تاریخ پر گرفت بہت زبردست ہے اور آئندہ کے حالات کے حوالے سے بھی بہت اچھا تجزیہ پیش کیا۔ اگرچہ سیات پر وہ کھل کر نہیں بولے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شہزادہ حسن ولی عہد تھے اور ان کے بڑے بھائی کنگ حسین اس وقت بادشاہ تھے۔ کئی سالوں تک یہ ولی عہد رہے اور اس دوران شاہ حسین کو علاج کیلئے امریکہ جانا پڑا جب وہ 1999 میں اپنی وفات سے 4 روز قبل امریکہ سے واپس آئے اور آتے ہی انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ شہزادہ حسن بن طلال کو ولی عہدی سے معزول کرکے اپنے بڑے صاحبزادہ کو ولی عہد نامزد کردیا اور کچھ ہی روز بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ شہزادہ حسن نے سمجھ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے بھتیجے سے بعیت کی اور وفاداری کا اعلان کیا۔ کافی عرصہ تک وہ متحرک رہے اور زیادہ تو چیریٹی کے کام میں مصروف رہے لیکن پھر کچھ عرصہ سے گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

میری گزارش فقط یہ ہے کہ کس طرح عالم اسلام کو ایک عظیم مدبر اور رہنما کی قیادت سے محروم کردیا گیا جو ایک واضح ویژن رکھتے ہیں۔ آج ہم سب جانتے ہیں کہ امت مسلمہ میں ایسے پڑھے لکھے اور جہاندیدہ لیڈروں کی واضح کمی اور فقدان ہے۔ شہزادہ حسن کو کیوں اردن کا کنگ نہیں بننے دیا گیا اس پر تفصیلی گفتگو پھر کبھی لیکن اس بارے میں دو رائے نہیں کہ وہ ایک مخلص اور مدبر رہنما ہیں اور عالم اسلام کو ایسے ہی افراد کی اشد ضرورت ہے

Shopping Basket