The Trending Abdul Qadir Baba

Dear Readers,

In the last days of Ramadan, Abdul Qadir Sahib’s video went viral on social media. He received a lot of appreciation because of his simple attire. I also wrote that may Allah keep him safe and bless him with more respect.

Undoubtedly, the love of Haramain dwells in the heart of each of us.

One bad thing about us is that we commercialise everything. According to the new videos now surfacing, people are going to this old man. They are getting him to utter an incantation for them, bestowing him with garlands, and interviewing him. Even the simple old man is worried about what is going on. Housing societies and other business people are going to him to sell their stuff, gain cheap fame, and use them to do their own business.

I also think that Baba Ji will not even know which opportunists are using him and how long this will continue. Now donations will start in this regard. He will be considered as a Saint, his shrine will be established, and after the death of Baba Ji, his shrine will be erected. Furthermore, even his successors have also started appearing. What is this all going on? We, the people, should think.

We should always uphold our beliefs. Nothing is more important than that. The dress and simplicity Baba Ji became famous for can be commonly seen all over Sindh and Balochistan. I personally know many people who have been saving for a long time due to poverty and become eligible to travel to Haramain after selling their land and other things. It is a blessing that I have made many such people travel to Haramaain and also met many like that in Madina Munawara and Makkah.

However, when it comes to us, even someone’s simplicity is misused, and then the results aren’t positive for that. Still, God willing, no new sect or series should be attributed to this old man. May Allah Almighty, the condition of our Ummah, have mercy on us. Ameen.

رمضان المبارک کے آخری ایام میں سوشل میڈیا پر عبدالقادر صاحب کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ انہیں ان کے سادہ لباس کی وجہ سے بہت پزیرائی ملی۔ میں نے بھی ان دنوں لکھا کہ اللہ انہیں اپنی امان میں رکھے اور مزید عزت سے نوازے۔

یقیناً حرمین کی محبت ہم میں سے ہر ایک کے دل میں بستی ہے۔ ہمارے ہاں ایک برائی یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو کمرشلائز کردیتے ہیں ۔ اب جو نئی ویڈیوز سامنے آرہی ہیں کہ لوگ ان بابا جی کے پاس جا رہے ہیں ۔ ان سے دم کروا رہے ہیں ۔ ہار پہنا رہے ہیں ان کے انٹرویوز لیے جارہے ہیں۔ اس سے وہ سادہ لوح بزرگ خود بھی پریشان ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ اپنا سامان بیچنے والے اور سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے ہاؤسنگ سوسائٹی والے اور دیگر کاروباری افراد بھی ان کے پاس جارہے ہیں اور انہیں اپنا چورن پیچنےکے لئے استعمال کر رہے ہیں۔

میرے خیال میں بھی بابا جی کو تو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ کون کون سا موقع پرست ان کو کیسے استعمال کررہا ہے اور یہ سلسلہ نجانے کب تک جاری رہےگا اب اس سلسلہ میں چندہ شروع ہوجائے گا، اسے پیری مریدی کا رنگ دیا جائے گا، ان کا آستانہ قائم کیا جائے گا اور بابا جی کے انتقال کے بعد ان کا مزار قائم کردیا جائے گا۔ ابھی سے ان کے ولی عہد اور خلیفہ بھی میدان میں آچکے ہیں ۔ یہ کیا طریقہ ہے آخر؟ ہم لوگوں کو سوچنا چاہئے ۔
ہمیں اپنے عقائد کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے اس سے اہم کچھ نہیں ۔ جس لباس اور سادگی کی وجہ سے بابا جی مشہور ہوئے وہ آپ پورے سندھ اور بلوچستان میں عام دیکھیں گے۔ میں ذاتی طور پر ایسے بہت سے افراد کو جانتا ہوں جو غربت کی وجہ سے بہت عرصہ پیسہ جمع کرتے ہیں اور اپنی زمین اور دیگر اشیاء بیچ کر حرمین کا سفر کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ تحدیث نعمت کے طور عرض کررہا ہوں کہ ایسے کتنے ہی افراد کو میں بھی حرمین کا سفر کروا چکا ہوں اور ایسے کئی افراد سے مدینہ منورہ اور مکہ میں ملاقات بھی کرچکا ہوں ۔

لیکن ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ کسی کی سادگی کو بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے اور پھر اس کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوتے۔ اب بھی خدانخواستہ ان بابا جی سے کوئی نیا فرقہ یا سلسلہ ہی منسوب نا کردیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہماری امت کے حال پر رحم کرے آمین ۔
Shopping Basket